​http://www.mukaalma.com/article/RazaShahJillani/2274

Advertisements

قاتل

تحریر: رضا علی شاھ
___________________________________________________________

لکھنے کے لیئے آپ کے پاس الفاظ کا خزانہ ہو یہ بھی کوئی لازم نہیں. لکھنے کے لیئے آپ کے پاس احساسات کا ہونا شرطِ اولٰی ہے.
آجکل جو کچھ میرے آس پاس ہو رہا ہے اس سے قطعہ نظر میں ویسے بھی لکھنے کے کام کو بتدریج کم کرتا جا رہا ہوں.

گزشتہ ایک ہفتے سے کچھ نا لکھنا میرے لیئے انتہائی اھم ہے. کئی ایک واقعات نے لکھنے پر مجبور کیا مگر قلم کو جیسے سستی کاہلی کی عادت ہی پڑ گئی ہو.
کلبھوشن کی گرفتاری نے کچھ قلم کو دھکا لگایا مگر بہت کچھ لکھنے اور ترتیب دینے کے بعد کمپیوٹر کے فولڈر میں محفوظ کرنا ہی مناسب سمجھا…
اسکی ایک خاص وجہ جو کہ میں ہی جانتا ہوں وہ یہ کہ بلوچستان اور سندھ کی فضا میرے لیئے نئی نہیں.

سندھ میں میرا جنم ہوا ہے اور یہاں کی جیوگرافی کو میں بہتر جانتا ہوں اس ہی طرح بلوچستان سے میرا قلبی لگاؤ ہے اور وہاں کے حالات سے میں کسی بھی اور لکھاری سے زیادہ واقفیت رکھتا ہوں.
بلوچستان میں کہاں اور کب کیسے حالات بگڑتے ہیں یہ تو میرے جیسا انسان جو وہاں رہتا ہے وہ ہی آج تک نا سمجھ سکا تو وہ کیسے سمجھنے کا دعوٰی کر رہے ہیں جو فقط ٹی وہ پر ہی بلوچستان کا فضائی معائنہ کرکے اپنے بھاری بھرکم تجزیات پیش کر کے اپنے پروگرام کی ریٹنگ کے چکر میں جانے کیا سے کیا بول جاتے ہیں.

میں صرف اتنا کہنا چاھوں گا کہ کلبھوش کا پکڑا جانا کوئی معمولی کامیابی نہیں بلکہ ایک غیر معمولی اور ایک اھم سنگِ میل کی جانب شروعات ہے.
کلبھوشن صرف ایک فردِ واحد کا نام نہیں.
کلبھوشن ایک کردار ہے اور اسکے پیچھے پوری ایک ٹیم کام کر رہی ہوگی جو کہ یقیناً اسکے آس پاس ہی ہوگی.
اور انٹیلیجنس اینجنسیز اتنی بھی کوئی سادہ نہیں ہوتیں کہ جسے گرفتار کیا جائے اسے پہلے ہی دن ٹی وی پر پیش کر دیں.

ایسا تو کوئی ھیڈ کانسٹیبل ایک موبائل چور کیساتھ بھی نہیں کرتا تو ظاہر ہے ساری معلومات کے بعد ہی اس کلبھوشن کا بیان دنیا کے سامنے پیش کیا گیا ہوگا.
جتنا میں بلوچستان کو جانتا ہوں اس حساب سے تو اگلے کچھ روز کافی اھم ہیں اور کافی تبدیلی کی امید لگائی جا سکتی ہے کئی گرفتاریاں ہو سکتیں ہیں کئی سرکاری اور غیر سرکاری اداروں بشمول این جی اوز کے اعلٰی عہدیداران کی بھی گرفتاری کا سلسلہ بھی ہو سکتا ہے مگر یہ سب موجودہ وفاقی حکومت کے رویہ پر منحصر ہے کہ وہ کس حد تک ایجنسیز کو اختیارات دیتی ہے.
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اور آخر میں وہ اندوہناک واقعہ جس نے میرے قلم میں جنبش پیدا کی وہ سندھ بلوچستان کے بارڈر سے ملحقہ شہر میں ہوا جہاں ایک نو بہیاتہ سولہ سالہ دلہن کو اس اسکے اڑتیس سالہ شوہر نے شادی کی رات ہی موت کے گھاٹ اتار دیا.
وجہ …….. !!
کاش کے اس المناک واقعہ کی میں وجہ لکھ سکتا.
ھم زہنی پسماندگی کے مارے لوگ نجانے کب اس نام نہاد غیرت کی عفریت باہر نکلیں گے..
ہاں شاید کلبھوشن ایک کردار ہی ہے مگر عملی کردار ھماری سوچیں ہیں..
کلبھوشن ھمیں تباہ کرنے کہاں سے کہاں آیا مگر وہ بہت بڑا بیوقوف تھا اسے شاید معلوم ہی نا تھا کہ وہ جو کام کرنے کے لیئے اتنے جتن کرتا ہے وہ کام ہماری زہنی بیمار قوم آئے روز کرتی ہے.
اور ہاں یہ قاتل کیا خود فرشتہ ہیں …………..!!

اتوار کہانی

تحریر: رضاعلی شاھ
_______________________________________________

کل رات بائیں بازو میں ہلکے ہلکے درد نے یہ محسوس کروایا کے بلڈ پریشر کی دوا اب کھا لینی چاھیے سو ھم نے ایک عدد آرام والی ٹکیہ لی اور لیٹ گئے نیند تو کیا آنی تھی بس درد بڑھتا ہی گیا اور یوں ھم آہستہ آہستہ نیند کے خمار میں چلے گئے.
اتوار کا دن جہاں دیگر افراد کے لیئے آرام کا شمار ہوتا ہے وہیں ہفتے کے روز سے ہی مجھے یہ اندیشہ نجانے کیوں دل میں بیٹھ جاتا ہے کے ہو نا ہو یہ اتوار بھی میرے لیئے گزشتہ سے پیوستہ ہی ثابت ہوگا.
اس روز دنیا جہاں کے لوگ آرام فرماتے ہیں اور صبح دیر تک بستر پر پڑے رہتے ہیں وہیں ہمارے معاملے میں یہ دن کبھی بھی آرام دہ ثابت ہوا ہی نہیں.
ایسا ہی کچھ اتوار کی رات ہوا جسے عام طور پر سنڈے نائیٹ کہا جاتا ہے.
دوا لیتے ہی ہم ابھی نیند کی آغوش میں ہی گئے تھے کے اچانک بجلی چلی گئی ویسے اسکے آنے جانے پر ھماری طرف سے کوئی روک ٹوک نہیں اسکا جب جی چاھے ہمیں بغیر بتائے جاسکتی ہے اور جب تک جی چاھے گھر سے باہر رہے سکتی ہے (کئی بار تو کتنی ہی راتیں گھر نہیں آئی).

خیر ھم نا چاھتے ہوئے بھی اٹھے اور موبائل کی روشنی میں وقت دیکھا تو پورے ایک بج کر تیس منٹ منہ چڑھا رہے تھے.
بڑی ہی کوئی مشکل سے اٹھ کر ہم نے بجلی سے چلنے والی اہم اشیاء کو آف کیا جیسا کے ہر پاکستانی کو یہاں بجلی جاتے ہی پہلا کام یہ ہی کرنا پڑتا ہے پھر چاھے وہ کتنی ہی نیند میں ہو یا کسی اہم کام میں ہی کیوں نا مصروف ہو.
تو ھم نے بھی یہ کیا اور آکر بستر پر گر گئے ابھی آنکھ ہی لگی تھی کے بجلی اپنی مکمل آب و تاب کیساتھ دھاڑتی چیختی چنگاڑتی واپس آگئی اور منحوس کیا آئی کے پہلے ایک سیور کے پھٹنے کی آواز آئی اور پھر گھر کے مختلف کونوں سے مختلف اقسام کی آوازیں آئیں جسے کسی شرارتی بچے نے شب برات کے پٹاخے پھوڑ دیئے.

مرتے کیا نا کرتے موبائلز کی روشنی میں بڑی مشکل سے  سیورز کی کرچیوں کا کچرا سمیٹا اور باقی ماندہ بجلی کی اشیاء کو چیک کرنے کے لیئے گھر کا ایک ہنگامی دورہ کیا..
ہماری طرح گھر کے دیگر افراد بھی ایمرجنسی والی صورتحال کے پیشِ نظر ہاتھوں میں صفائی ستھرائی (جھاڑو برش) لیئے صفائی میں مشغول تھے اور یہ دیکھ کر اطمینان ہوا کے صرف چند ٹیوب لائٹس سمیت کچھ الیکٹرک سیورز ہی جان سے گئے ہیں.

واپس کمرے میں آئے اور سونے کی تیاری ہی کر رہے تھے کے ایک عجیب سی ” بو ” نے پریشان کر دیا بڑی مشکل سے اس جلی کٹی بو کا سراغ لگانے کے لیئے موبائل کی مدھم روشنی کا سہارا لیا….

اور جب اس جلی کٹی ” بو ” کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے ہم کمرے کے اُس کونے پر پہنچے جس کونے کی بدولت ہم دیگر دنیا سے رابطے میں رہتے ہیں تو یقین جانیں یہ دیکھ کر دل کو ایک شدید سا جھٹکا لگا کے ہمارے پی ٹی سی ایل براڈ بینڈ ڈیوائس کا ایڈاپٹر (چارجر)  اس جہانِ فانی سے کُوچ فرما چکا تھا اور اس کی چتِا سے نکلنے والا دھواں یہ بتا رہا تھا کے میاں کل تو اتوار ہے سرکاری چھٹی بھی ہے.
اور پی ٹی سی ایل والے مرنا قبول کر لیں گے مگر اپنے خزانے سے یہ معمولی سے چیز آپکو دینا وہ بھی اتوار کے دن انہیں قبول نہیں ہوگا.
اوور اس پر یہ کے یہ چیز آپ کے چھوٹے سے شہر کی معمولی سی الیکڑک کی دکانوں پر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گی…..
آخری دفعہ کس دل سے کتنی ہی سوچوں کیساتھ اس ایڈاپڑ (چارجر) کو اپنی نم دیدہ آنکھوں سے دیکھتے ہوئے بجلی کے بورڈ سے علیحدہ کیا اور لاکھ کوسنے واپڈا کو بھی دیئے جس کے وہ یقیناً لائق بلکہ تصدیق شدہ لائق ہیں..

نیند تو کیا آنی تھی بس دل کیا کے کوئی واپڈہ والا مل جائے ( اپنے موبائل سے ایک لائن مین کا نمبر ڈھونڈا اور جتنا کچھ یاد تھا یہ زہن میں آیا سنا دیا )
ساری بھڑاس اس پر نکال دی.

اگلے چوبیس گھنٹے ہمارے لیئے شدید اہمیت کے حامل تھے
صبح کوئی پانچ بجے سے ہی ہم نے پی ٹی سی ایل کے افسران کو کھڑاکا دیا کہ یہ معاملہ درپیش ہے جلدی ہمارے مسئلے کا حل ڈھونڈا جائے مگر وہ ہی ہڈ دھرمی وہ ہی سرکاری افسران والی روش..
پہلے تو سنڈے کا راگ الاپتے رہے پھر نو بجے تک کسی کی بیگم ہسپتال میں جا پہنچی تو کسی کی والدہ شدید علیل ہو گئیں اور تو اور ایک صاحب نے تو اپنے آپ کو اغوا شدہ بتا دیا کے انہیں کچھ نامعلوم افراد نے گاؤں سے شہر آتے ہوئے روک لیا ہے.
الغرض سو بہانے سو افسانے.
آپ جہاں کسی سرکاری یا نیم سراکری افسر کو کام کرنے کا کہتے ہیں گویا اس کو باقائدہ موت ہی پڑ جاتی ہے…
اتوار کا دن آتے ہی کیا کیا مشکلات لاتا ہے یہ ہم ہی جانتے ہیں تو دوستوں یہ تھی ہماری اتوار کہانی…
نوٹ:
انٹرنیٹ کے بنا اب رہنا دشوار ہے اس لیئے نیٹ کی بحالی کا کام  (جگاڑ) چل رہا ہے…

فلمی دھشتگرد

تحریر: رضاعلی شاھ…..

گزشتہ روز سندھ اسمبلی کی بلڈنگ کے اندر سیشن کے دوران کالی قمیض شلوار میں ملبوس ایک خطرناک دھشتگرد پسٹل سمیت بھاری ہتھیاروں کے ساتھ گرفتار.
اطلاعات کے مطابق سندھ اسمبلی میں گزشتہ روز سیشن شروع ہوتے ہی پریس گیلری سے ایک شخص اپنی کرسی سے ایک دم کھڑا ہوا اور پسٹل نکال کر سامنے بیٹھے اسپیکر کی جانب کر کے چلایا..
ھم نا ہوں ھمارے بعد الطاف الطاف…

سیکیورٹی افسران نے فوراً اپنی جان پر کھیل کر دھشتگرد پر قابو پالیا.
اسی دوران اسکے ایک اور ساتھی نے جیسے ہی ھینڈ گرنیڈ سمیٹ زمین سے فضاء میں مار کرنے والا انڈین ساختہ راکٹ لانچر اپنی قمیض کی جیب سے نکالا تو اسمبلی میں اچانک بھگدڑ مچ گئی.

کالی قمیض پہنے دھشتگرد نے موقع پاتے ہی اسپیکر اسمبلی کی جانب چھلانگ لگائی مگر نوجوان باھمت اسپیکر سندھ اسمبلی ایک دم اپنی جگہ سے اٹھے اور جوان مردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی جانب آنے والے دھشتگرد کو اپنی مضبوط بانہوں میں لپیٹ کر نیچے گرا دیا یوں اسمبلی میں موجود تمام قیمتی ممبرز کی جان بچا لی.
اور اسکے ساتھ ہی اسپیکر نے نعرہ بلند کیا…
تم کتنے بھٹو مارو گے
ہر گھر سے بھٹو نکلے گا..
جیئے بھٹو.

مگر اچانک ہی دوسرے دھشتگرد نے موقع پاتے ہی اپنی شلوار کے خفیہ خانے سے اینٹی ائیر کرافٹ مزائل نکال کر فضاء میں بلند کرتے ہوئے کہا..
حق کی کھلی کتاب الطاف الطاف.

سندھ اسمبلی کے اندر جنگ کا سماں پیدا ہو گیا دوسری جانب ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی اور چینلز کی نشریات دیکھتے ہوئے بھی یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کے دونوں دھشتگردوں کا تعلق مبینہ طور پر کراچی کی ایک سیاسی جماعت کے ایک خطرناک عسکری ونگ سے ہے جسے ” عمران عرف موٹا” اور ” اقرار مینٹل ” نامی دھشتگرد آپریٹ کر رہے ہیں.

دونوں دھشتگردوں کو کئی گھنٹوں بعد سندھ پولیس کے اعلٰی افسران نے زیر کر لیا.
کالی قمیض والے دھشتگرد کی جامعہ تلاشی کے دوران پستول کے علاوہ قمیض کے اندر بنیان میں چھپائے گئے پچاس سے زائد ھینڈ گرینیڈ و دستی بم سمیت دو کلاشنکوف اور ساٹھ کے قریب گولیوں کے راؤنڈ برآمد ہوئے. جبکہ شلوار کے خفیہ خانوں میں بھاری تعداد میں بارود ملا.

دوسری جانب موٹے والے دھشتگرد کے پاس سے ھندستانی ساختہ اینٹی ائیر کرافٹ مشین بیس کے قریب لانچر اور متعدد دستی بم جو کہ اس نے اپنی شلوار کی خفیہ جیبوں میں چھپا رکھے تھے وہ سب سندھ پولیس کے مجاھدوں نے برآمد کر لیئے…

اصلی خبر…
عزیر بلوچ نے دو سو کے قریب قتل کی ورداتوں کا اعتراف کر لیا. قتل کروانے والے سیاسی افراد کا نام بھی جے آئی ٹی رپورٹ کو دے دیا
مگر سندھ پولیس اس کے اعترافی بیان کو ماننے سے انکار کر رہی ہے..
کیا قتل ہونے والے ان دو سو افراد کا نام میڈیا نے بتایا..
کیا عزیر بلوچ کے لیے گئے ان سیاسی ناموں کا تذکرہ کسی بھی چینل میں کرنے کی ھمت ہے……

نابینا

تحریر: #رضاعلی شاھ
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

صبح جلدی جلدی ناشتہ کیا ایک ضروری کام سے سیکریٹریٹ جانا تھا. جلدی اس لیئے بھی تھی کے بابو لوگ وقت کے بڑے پابند ہوتے ہیں جہاں ایک دو منٹ اوپر ہوئے نہیں کے وہ سیٹ سے ایسے غائب ہوتے ہیں جیسے گدھے کے سر سے سینگ پھر چاھے آپ سارا دن لگا دو یہ سرکاری افسر نہیں ملتا.
سو ھم بھی گاڑی تک پہنچے ہی تھے کے ڈرائیور صاحب منہ لٹکائے گاڑی میں خرابی کا عندیہ لیے کھڑے ملے.
چپ چاپ صبر اور ضبط کا گھونٹ پیتے ہوئے ٹیکسی لی اور منزل پر پہنچ کر کام نمٹایا.
واپسی کا ارادہ کیا تو سوچا کیوں نا ساحلِ سمندر کا رخ کیا جائے کافی دیر تک کوئی رکشہ نا ملا تو کلفٹن جانے والی ایک بس پر چڑھ بیٹھے.
بس قدرِ خالی تھی اور آگے کی جانب کھڑکی کے ساتھ والی سیٹ مل گئی.
ھم بھی خاموشی سے اُس پر بیٹھ گئے.
کچھ باہر کا نظارہ کرتے کرتے اچانک ڈرائیورنگ سیٹ کے پیچھے اور بلکل میرے ہی سامنے پیلے جوڑے میں ہاتھوں پر لگی مہندی اور کلائیوں میں پہنے گجرے والی ایک دوشیزہ پر نظر گئی پہلے تو ھم نے نظر جھٹک دی مگر محسوس کیا کے بس کے تمام ہی مسافر اس کے جانب رشک بھری نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں.
ھم نے بھی ایک بار پھر دیکھا اور ماشاءاللہ پڑھ لیا…
ویسے بھی بزرگوں کا فرمان ہے کے خوبصورتی کو دیکھ کر ماشاءاللہ لازمی پڑھ لیا کرو.
گرمی زوروں کی پڑ رہی تھی اور بس نے جیسے ہی اسپیڈ پکڑی تو گرم ہوا کے تھپیڑوں نے اس ماہ رخ کے چہرے سے نقاب ہٹا دیا..
نقاب کا کیا ہٹنا تھا کے بس کے کئی مسافروں کے حوصلے جواب دے گئے. ھم نے خود با آواز بلند سبحان اللہ ماشاءاللہ کی صدائیں سنیں.
مجھے نہیں یاد کے ایسا دلفریب حسین خوبصورت چہرہ میں نے اپنی زندگی میں کبھی تک دیکھا ہو.
مگر حیرانگی اس بات پر ہوئی کے ماہ رخ نے یہ سب آوازیں اور اتنی توجہ ملنے کے باوجود بھی لمحہ بھر بس میں موجود کسی بھی شخص پر نظر نا ڈالی.
صرف باہر کے نظارے ہی کرتی رہیں.
کئی افراد کی منزل آئی اور آکر گزر گئی کنڈیکٹر کئی مسافروں سے الجھا کے تمھیں یہاں اترنا تھا یہاں تک کا کرایہ دیا تھا.
اور مسافر بضد کے خان دماغ کہاں ھے تمھارا ھم نے شیریں جناح کالونی کا کہا تھا اور تم ھمیں دو تلوار پر اتار رہے ہو.
خیر دس بیس اوپر دیکر کئی مسافر اپنی جگہ پر قائم دائم رہے.
بس میں رش بڑھتا ہی گیا. اس پری زاد کا چہرہ دیکھنے کو ہر مسافر دوسرے سے الجھ رھا تھا.
مرد تو مرد میں نے خواتین کو بھی دیکھا جو اس لڑکی کے حسن پر رشک کر رہیں تھیں. مگر وہ مغرور حسینہ جس نے ایک نظر بھی اپنے کرم فرماؤں پر ڈالنا کفر ہی سمجھ رکھا تھا اور صرف بس کے باہر ہی جھانکے جا رہی تھی.
خدا خود کتنا حسین ہوگا یہ میں نے اس دن اندازہ لگایا…
میرا اسٹاپ قریب ہی تھا میں اترنے کے لیے تیاری پکڑنے لگا تو ایک ضعیف آواز نے بس رکنے کی سدا لگائی بس ایک دم رکی….
خواتین میں بیٹھیں ایک معمر خاتون اللہ کا نام لیکر کھڑی ہوئیں اور اپنے تھیلے میں اس ایک اسٹک نکالی جسے عموماً نابینا افراد استعمال کرتے ہیں.
اور آگے بڑھ کر اس پری زاد دوشیزہ کا ہاتھ پکڑ کر وہ اسٹک اس کے ایک ہاتھ میں تھما دی.
وہ لڑکی ایک جھٹکے سے کھڑی ہوئی اور کہا..
امّا کیا ماموں کا گھر آگیا..
خاتون نےکہا ہاں بیٹا چل خیال سے اترنا پہلے بھی تو گر گئی تھی..
وہ لڑکی اسٹک اور خاتون کا سہارا لیے بس سے اترنے کے لیئے آگے بڑھنے لگی….
پہلے تو پوری بس میں سناٹا سا چھا گیا تھا..
ہلکی ہلکی آوازیں آنے لگیں..
ابے یار یہ تو اندھی ہے..
توبہ توبہ ضرور کسی گناھ کی سزا ملی ہوگی..
خدا کی قدرت دیکھو کتنی خوبصورت لڑکی اور اندھی نکلی…!

معمر خاتون پہلے اتریں اور پھر وہ لڑکی اترنے لگی مگر زرا دیر کو رکی اور بس میں مسافروں کی جانب دیکھا…
جیسے اس نے وہ سب کچھ سنا ہو اور اب ان سب باتوں کا جواب دینا چاھتی ہو پوری بس میں ایک دم سناٹا چھا گیا سب خاموش ہو گئے کئی مسافر تو اپنا سر جھکا کے بیٹھ گئے جیسے وہ اس معاملے سے لا علم ہوں.
مگر وہ لڑکی چپ رہی کچھ نا بولی.
اسکی آنکھ سے آنسو ٹپکا.
اور خاموشی سے اتر گئی….
اگلے لمحے بس دوبارا رکی میرا اسٹاپ آگیا تھا میں لوگوں کو توبہ توبہ کرتا دیکھ کر خاموشی سے اپنی منزل پر اتر گیا……

کّدو

تحریر: رضاعلی شاھ
…………………..««««««««»»»»»»»»»…………………………………..

کراچی کے حالات اور اسکی سیاست پر لوگ کچھ اس طرح سے تبصرے کرتے ملتے ہیں کہ جیسے کراچی کے تمام مسائل کا حل انکی بصیرت انکے سحر انگیز تجزیاتی ٹوٹکوں کے پیچھے ہی چھپا.
مجھے اس وقت تو بہت ہی عجیب لگتا ہے کہ جب کچھ چلے ہوئے ناکارہ کارتوس بھی کراچی کی سیاسی ڈائینیمک پر شدید گولہ باری کرتے ہوئے ملتے ہیں.
اور تو اور اس شہر کو پاکستان کے دوسرے شہروں کی سیاست سے ایسے جوڑ دیتے ہیں کہ جیسے گوشت کیساتھ آلو کا شوربہ..
میرے دوست احباب بھی بڑے ہی سادہ لوح ہیں اور مجھے اکثر و بیشتر مختلف فورمز پر بلا لیتے ہیں وہ یہ جانتے بھی ہیں کہ میرا تعلق کراچی سے نہیں ہے مگر پھر بھی اس کی سیاسی ہل چل کے روز و شب کیسے گزر رہے ہیں لیاری کہاں جا رہا ہے نائن زیرو کی کیا سوچ ہے اور بلاول ھاؤس کی سندھ رینجرز سے کب …….. مجھے اس پر بحث کروا دیتے ہیں.
کچھ روز قبل ایک مرحوم ایم این اے صاحب کی فاتحہ خوانی میں جانے کا شرف حاصل ہوا وہاں سندھ پر حکومت کرنے والی جماعت کے لوگوں نے اپنے دکھ درد بیان کیئے کہ کیسے انہیں اب نیب سمیت نجانے کتنے اداروں کے چھوٹے سے چھوٹے افسران کی بھی ڈانٹ ڈپٹ سننے کو ملنے لگی ہے.
ان میں سے اکثر افراد کا یہ رونا بھی تھا کہ جو غلطیاں ان سے سرزد ہوئیں ہی نہیں ان کے  گناھ بھی گنوائے جا رہے ہیں جبکہ پارٹی کے “بڑوں ” کے کئیے گئے گناھِ عظیم بھی
” بڑوں کی غیر موجودگی ” میں ھم معصوموں کے گلے ڈالے جا رہے ہیں……
وہیں بیٹھے اسلام آباد سے آئے ایک اُن ہی کی پارٹی کے اعلٰی عہدے پر فائز اور سابق مشیر صاحب بابو جی ٹائپ نے یک دم فرمایا کہ شاھ صاحب…
سارا کیا قصور کراچی والوں کی سیاست کا ہے یہ لوگ بھی نا بس….
اگر یہ لوگ ھماری حکومت کا ساتھ دیں تو ھم ایک بار پھر سے مضبوط ہو سکتے ہیں مگر کراچی کے سیاست دانوں کا ھمیں بخوبی علم ہے ایک دن آئے گا یہ لوگ جائیں گے عنقریب دوبئی اور صلح ہوجائیگی..
ایک صاحب ھمارے ساتھ بیٹھے تھے ھم سے بھی مخاطب ہوئے..
کیوں شاھ جی کیا لگتا ہے آپکو…
انکی بات میں دم خم ہے یا ایویں ہی دل کی بھڑاس نکال رہے ہیں
سب ھماری طرف متوجہ ہوئے.. ھم گلہ صاف کرتے ہی ان صاحب سے پوچھ بیٹھے..
لگتا ہے آپ کراچی کی عوام اور اسکی سیاست کو خوب جانتے ہیں..
یہ کہنا ہی تھا کہ ان صاحب کے سینے میں جیسے ہوا بھر گئی اور چہرہ مبارک سرخ….
صاحب فرماے لگے جی جی.. گزشتہ حکومت میں مجھے بھی ایک عدد پلاٹ ملا تھا.. اور اکثر پارٹی کے کام وام کے سلسلے میں آنا جانا رہتا تھا پر بدقسمتی کے لیز کینسل ہوگئی.
میں نے سب کو متوجہ پا کر کہا…
کراچی کیا ہے آج آپ کو ایک لطیفہ سناتا ہوں کوئی دل پر نا لے….
وہ صاحب بھی گھورنے لگ گئے..
میں نے کہا کہ
لاہور سے کراچی کے لیئے ایک ٹرین چلی..
ٹرین میں آمنے سامنے ایک فیملی بیٹھی تھی ایک لاہور کی اور ایک کراچی کی..
لاہور والے صاحب نے کراچی کی فیملی کے ایک بچے سے کہا کہ…..
بیٹا کچھ باتیں کرتے ہیں کب سے خاموش ہیں..
کچھ بولتے ہیں تاکہ وقت گزر جائے..
بچے نے کہا کس موضوع پر..
لاہوری صاحب نے فرمایا کہ ایسا کرتے ہیں کہ کراچی کے حالات پر بات چیت کرتے ہیں آپ بھی وہاں کے ہیں..
بچے نے کہا انکل پہلے میرے بات کا جواب دیں..
صاحب نے فرمایا.. ہاں ہاں بولو بولو….
بچے نے کہا کہ وہ بات یہ ہے کہ کّدو دیکھا ہے آپ نے
اُسکا بیج پاکستان میں سفید بنگلادیش میں پیلا اور ھندستان میں گلابی کیوں ہوتا ہے…
لاہوری صاحب نے سوچتے ہوئے فرمایا.. مجھے نہیں معلوم…
بچے نے کہا کہ….
پتا کّدو کا نہیں ہے اور چلے ہیں کراچی پر گفتگو کرنے……….
میرا یہ لطیفہ سن کر سب اُن سابق مشیر صاحب کی جانب دیکھ کر خوب کھِل کھلا کر ہنسے…..
اور وہ صاحب سر جھکا کر موبائل میں مصروف ہو گئے…
مجھے کان میں ہلکی سی آوازیں آنے لگیں…
لگتا ہے متحدہ کے ہیں… نہیں نہیں جماعتی ہونگے دیکھو ہلکی سی داڑھی بھی تو ہے..
کسی نے کہا نہیں نہیں پکے جیالے ہیں جیالے…
اور ھم اس دوران اپنے دوستوں کے ساتھ کئی سیلفیاں
لے چکے تھے…..

میرے چارہ گر مجھے یاد رکھ
تیرے شہرِ بے مثال میں
گزری ہیں مجھ پر جو اذیتیں
اُن اذیتوں کا ہی پاس رکھ
میرے چارہ گر مجھے یاد رکھ…!